جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل

Tahir Faraz

جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل

میں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزل

خیر مقدم کو ترے آئے گا خود ہی سورج

تو کبھی رات کی دہلیز سے باہر تو نکل

اپنے افسانے سے دلچسپیاں کچھ کم کر دے

نیند کے بوجھ سے ہونے لگیں پلکیں بوجھل

حادثے راہ کے زیور ہیں مسافر کے لیے

ایک ٹھوکر جو لگی ہے تو ارادہ نہ بدل

بولنے کے لیے چاہا ہے مجھے اس نے فرازؔ

بند ہونے کے لیے کھلتے ہیں پانی میں کنول