نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہو

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہو

قید میں قید رہے قید کی میعاد نہ ہو

میں تو خاموش رہوں ہجر میں ڈر ہے لیکن

درد اٹھ کر کہیں آمادۂ فریاد نہ ہو

تم میں پنہاں ہیں محبت کے ہزاروں جلوے

اے مری خاک کے ذرو کہیں برباد نہ ہو

کچھ ہیں بکھرے ہوئے پر کنج قفس کے باہر

خوف ہے اور بھی رسوا کہیں صیاد نہ ہو

پھوٹ کر کس کے یہ رونے کی صدا آتی ہے

درد الفت کہیں میرا دل ناشاد نہ ہو

دل کی ایذا طلبی پوچھ لوں کیا کہتی ہے

ٹھہرو ٹھہرو ابھی دم بھر کوئی بیداد نہ ہو

شوقؔ کر دوں جو بیاں کاوش غم کی حالت

اپنا قصہ بھی کم از قصۂ فرہاد نہ ہو