آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنے

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنے

اور ہم اس کو بجھائیں تو بجھائے نہ بنے

رنگ رخ اڑنے پہ آج جائے تو روکے نہ رکے

لاکھ وہ راز چھپائیں تو چھپائے نہ بنے

کیا مزہ ہو نہ رہے یاد جو انداز جفا

میں کہوں بھی کہ ستاؤ تو ستائے نہ بنے

خود وفا ہے مری شاہد کہ وفادار ہوں میں

لاکھ تم دل سے بھلاؤ تو بھلائے نہ بنے

دل کے ہر ذرہ میں ہے سوز محبت کی نمود

خاک میں ان کو ملاؤں تو ملائے نہ بنے

راہ الفت نے کچھ ایسی مری صورت بدلی

دامن دشت چھپائے تو چھپائے نہ بنے

دل کو اب تاب تلافی و مداوا ابھی نہیں

چارہ گر آئے تو احسان اٹھائے نہ بنے

کوئی خاکہ مری تصویر کا کھینچے تو سہی

کھنچ بھی جائے کوئی نقشہ تو مٹائے نہ بنے

موت قابو کی نہیں اور نہ ٹھکانا اس کا

کوئی وقت اس پہ بھی آئے کہ بنائے نہ بنے

ایسے ڈھب سے ہو گلا ان کی ستم کا اے شوقؔ

بات کچھ چاہیں بنانی تو بنائے نہ بنے