Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. روزی مل جائے مال و دولت نہ سہیراحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  2. سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہےہم لوگوں سے کمپ کو پرے رکھا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  3. سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سواکہتا نہیں کوئی کچھ پڑھ پڑھ کے سواAkbar Allahabadi (1846–1921)
  4. سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعورکہتا نہیں تم سے میں کہ ہوں اس سے نفورAkbar Allahabadi (1846–1921)
  5. شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہےدشوار انساں کو ضبط ہو جاتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  6. طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہےاس جا ہے چمک جہاں زر افشانی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  7. عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاشہونے نہیں دیتا حسن کے راز کو فاشAkbar Allahabadi (1846–1921)
  8. علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیمسرکار کی نوکری کو ہرگز نہ کر ایمAkbar Allahabadi (1846–1921)
  9. غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھاافعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  10. کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہےخاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  11. کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایاغفلت ہی میں آدمی کو ڈوبا پایاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  12. لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیںبے ساختہ قافیے بھی مل جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  13. لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلےہر سمت سے بیسیوں رسالے نکلےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  14. مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہبیماری و موت سے کہاں کس کو پناہAkbar Allahabadi (1846–1921)
  15. ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نےدیکھا دنیا میں ایک زمانہ ہم نےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  16. ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کیہر باغ میں یہ کلی نہیں کھلنے کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  17. ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہےہمسایہ بھی ہو شریک تب شادی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  18. ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیلغیرت نہیں میری بزم دانش میں دخیلAkbar Allahabadi (1846–1921)
  19. ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلببیگانوں کے واسطے ہے اک حد ادبAkbar Allahabadi (1846–1921)
  20. اخلاق سے جہل علم و فن سے غافلمضموں جو دیکھیں تو مثل خط باطلShad Azimabadi (1846–1927)
  21. ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گےخواہان نمود تجھ کو کیا دیکھیں گےShad Azimabadi (1846–1927)
  22. اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیاگھبرا کے عدم کی سمت منہ موڑ دیاShad Azimabadi (1846–1927)
  23. بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہےہر حال میں پنہاں و نہاں ایک رہےShad Azimabadi (1846–1927)
  24. بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوںتحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوںShad Azimabadi (1846–1927)
  25. تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہےنغموں کی صداقت اس سے خود پیدا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  26. تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیںاپنے تھے جو کل آج وہ بیگانے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
  27. جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاںپھر خلق کہاں وقار الطاف کہاںShad Azimabadi (1846–1927)
  28. جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نےہر شے پہ کیا ہے غور کیا کیا میں نےShad Azimabadi (1846–1927)
  29. چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیںافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
  30. حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرااحباب و عزیز و اقربا سے بھی پھراShad Azimabadi (1846–1927)
  31. دل مورد ایزا و بلا ہوتا ہےپاداش عمل میں سب بجا ہوتا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  32. روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوںسمجھو نہ مجھے غیر تمہارا میں ہوںShad Azimabadi (1846–1927)
  33. سو طرح کا میرے لیے سامان کیاپورا اک عمر کا ارمان کیاShad Azimabadi (1846–1927)
  34. کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میںدنیا کہتی کہ دین فراموش ہوں میںShad Azimabadi (1846–1927)
  35. کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرادنیا میں بتا کون ہے ثانی تیراShad Azimabadi (1846–1927)
  36. مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیںقدسی طبق نور میں دبے جاتے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
  37. ہر حال میں آبروئے فن لازم ہےتقلید فصیحان وطن لازم ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  38. ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑےمشغول فغاں و آہ کر کے چھوڑےShad Azimabadi (1846–1927)
  39. اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئےسوتی قسمت کو کر کے بیدار گئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  40. تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیںمیں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  41. تو نے اے انقلاب کیا خلق کیاالٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  42. جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہےکیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  43. کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہےآنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  44. اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہےآواز شکست دل میں اک راگ بھی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  45. اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہیاللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہیAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  46. جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیںخوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  47. دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوںغم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  48. سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیاکس کی مردود کی ہوئی ہے دنیاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  49. سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نےسب دفتر پارینہ ڈبویا میں نےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  50. کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہےکچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)