اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے
Arzoo Lakhnavi (1873–1951)اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے
سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے
اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے
ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے
سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے
اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے
ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے