روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی
Akbar Allahabadi (1846–1921)روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی
راحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہی
گھر بار میں خوش رہیں عزیزوں کے ساتھ
دربار میں باہمی رقابت نہ سہی
روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی
راحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہی
گھر بار میں خوش رہیں عزیزوں کے ساتھ
دربار میں باہمی رقابت نہ سہی