عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش
Akbar Allahabadi (1846–1921)عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش
ہونے نہیں دیتا حسن کے راز کو فاش
کیوں وصل میں جستجو کمر کی وہ کرے
حاضر میں نہ حجت اور نہ غائب کی تلاش
عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش
ہونے نہیں دیتا حسن کے راز کو فاش
کیوں وصل میں جستجو کمر کی وہ کرے
حاضر میں نہ حجت اور نہ غائب کی تلاش