بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں
Shad Azimabadi (1846–1927)بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں
تحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوں
ایسوں کی صداؤں کا کچھ اتنا نہیں وزن
کیا عرض کروں اس پہ دبا جاتا ہوں
بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں
تحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوں
ایسوں کی صداؤں کا کچھ اتنا نہیں وزن
کیا عرض کروں اس پہ دبا جاتا ہوں