کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے

Arzoo Lakhnavi (1873–1951)

کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے

آنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہے

کیا کیا درکار ہے یہ میں کیوں سوچوں

تو خود ہر چیز دے کے سمجھاتا ہے