کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا
Akbar Allahabadi (1846–1921)کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا
غفلت ہی میں آدمی کو ڈوبا پایا
آنکھیں تو بے شمار دیکھیں لیکن
کم تھیں بخدا کہ جن کو بینا پایا
کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا
غفلت ہی میں آدمی کو ڈوبا پایا
آنکھیں تو بے شمار دیکھیں لیکن
کم تھیں بخدا کہ جن کو بینا پایا