جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہے
Arzoo Lakhnavi (1873–1951)جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہے
کیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہے
میں اپنی ضرورتوں کے احساس میں گم
اور تو ہے کہ بے مانگے دیے جاتا ہے
جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہے
کیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہے
میں اپنی ضرورتوں کے احساس میں گم
اور تو ہے کہ بے مانگے دیے جاتا ہے