Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- آج دستا ہے حال کچھ کا کچھکیوں نہ گزرے خیال کچھ کا کچھWali Dakani (1667–1707)
- خوب رو خوب کام کرتے ہیںیک نگہ میں غلام کرتے ہیںWali Dakani (1667–1707)
- دل طلب گار ناز مہوش ہےلطف اس کا اگرچہ دل کش ہےWali Dakani (1667–1707)
- دل کوں تجھ باج بے قراری ہےچشم کا کام اشک باری ہےWali Dakani (1667–1707)
- شغل بہتر ہے عشق بازی کاکیا حقیقی و کیا مجازی کاWali Dakani (1667–1707)
- عشق بیتاب جاں گدازی ہےحسن مشتاق دل نوازی ہےWali Dakani (1667–1707)
- کوچۂ یار عین کاسی ہےجوگئی دل وہاں کا باسی ہےWali Dakani (1667–1707)
- مفلسی سب بہار کھوتی ہےمرد کا اعتبار کھوتی ہےWali Dakani (1667–1707)
- اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخکھول آپس کے بیچ کلے شیخShah Mubarak Abru (1683–1733)
- جال میں جس کے شوق آئی ہےاس کے دل کوں تڑپھ کماہی ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہےشوخ ہے بانک ہے نکت بھوں ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دل نیں پکڑی ہے یار کی صورتگل ہوا ہے بہار کی صورتShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دل ہے ترے پیار کرنے کوںجی ہے تجھ پر نثار کرنے کوںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- زندگانی سراب کی سی طرحباد بندی حباب کی سی طرحShah Mubarak Abru (1683–1733)
- عشق ہے اختیار کا دشمنصبر و ہوش و قرار کا دشمنShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہےکہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- نازنیں جب خرام کرتے ہیںتب قیامت کا کام کرتے ہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- سانپ سر مار اگر جو جاوے مرنہ کرے زلف کے تری سر برShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اے سجن وقت جاں گدازی ہےموسم عیش و فصل بازی ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- تجھ بدن پر جو لال ساری ہےعقل اس نے مری بساری ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- تجھ بنا دل کو بے قراری ہےدم بدم مجھ کو آہ و زاری ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- جب سجیلے خرام کرتے ہیںہر طرف قتل عام کرتے ہیںFaez Dehlvi (1690–1738)
- گل ترے مکھ کی فکر میں بیمارجیو بلبل کا تجھ قدم پہ نثارFaez Dehlvi (1690–1738)
- یار میرا میان گلشن ہےغرق خوں پھول تا بہ دامن ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- تجھ قبا پر گلاب کا بوٹادل بلبل گویا ابھی ٹوٹاWali Uzlat (1692–1775)
- جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہےمجھ کو دوران سر نے گھیرا ہےWali Uzlat (1692–1775)
- آج دل بر کے نام کو رٹ رٹرو دیا لا علاج ہو پٹ پٹShah Hatim (1699–1783)
- ابر میں یاد یار آوے ہےگریہ بے اختیار آوے ہےShah Hatim (1699–1783)
- اس کی قدرت کی دید کرتا ہوںروز نو روز عید کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہےامر ربی ہے روح مولا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جب وہ عالی دماغ ہنستا ہےغنچہ کھلتا ہے باغ ہنستا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جس کوں پی کا خیال ہوتا ہےاوس کوں جینا محال ہوتا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جی ترستا ہے یار کی خاطراوس سیں بوس و کنار کی خاطرShah Hatim (1699–1783)
- درد دل میری آہ سے پوچھوسبب اس کی نگاہ سے پوچھوShah Hatim (1699–1783)
- دل مرا آج یار میں ہے گاکس خزاں میں بہار میں ہے گاShah Hatim (1699–1783)
- دیکھ بنیاد رب کی آدم ہےجان لے گا اگر تو محرم ہےShah Hatim (1699–1783)
- شیخ تو تو مرید ہستی ہےمئے غفلت کی تجھ کو مستی ہےShah Hatim (1699–1783)
- طرفہ معجون ہے ہمارا یارغیر سے ہم کنار ہم سے کنارShah Hatim (1699–1783)
- فکر میں مفت عمر کھونا ہےہو چکا ہے جو کچھ کہ ہونا ہےShah Hatim (1699–1783)
- کیونکہ دیوانہ بیڑیاں توڑےاس کو جانے ہے پاؤں کے توڑےShah Hatim (1699–1783)
- اے صنم تجھ برہ میں روتا ہوںاشک خونیں سیں منہ کوں دھوتا ہوںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- پیو کے آنے کا وقت آیا ہےجی کے جانے کا وقت آیا ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جان جاتا ہے اب تو آ جانیہجر کی آگ پر چھڑک پانیSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس کوں درد جگر کی لذت ہےزہر اس کوں مثال امرت ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جس نے تجھ حسن پر نگاہ کیانور خورشید فرش راہ کیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جلوۂ جاں فزا دکھاتا رہدل بے جان کوں جلاتا رہSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- خاک ہوں اعتبار کی سوگندمضطرب ہوں قرار کی سوگندSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دل مرا ساغر شکایت ہےزہر غم بس کہ بے نہایت ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- سینہ صافی کی ہے جسے عینکاس کوں دیدار یار ہے بے شکSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشق میں آ کہ عقل کوں کھوناںباخرد ہو کے بے خرد ہوناںSiraj Aurangabadi (1712–1764)