Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیںسچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیںسخی لکھنوی
  2. ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیںہم کو رغبت اسے کیا کہتے ہیںسخی لکھنوی
  3. ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتاتو یہ سکہ ہمارا چل جاتاسخی لکھنوی
  4. بام پر آتا ہے ہمارا چاندآسماں سے کرے کنارا چاندسخی لکھنوی
  5. بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیںتو غنچہ ہر طرف چٹکی بجائیںسخی لکھنوی
  6. پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیادل تو تھا ہی نہیں چراتے کیاسخی لکھنوی
  7. پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرحپھر کجی پر ہیں وہ ابرو کی طرحسخی لکھنوی
  8. تم اگر دو نہ پیرہن اپناچرخ سے مانگ لوں کفن اپناسخی لکھنوی
  9. جی جائے مگر نہ وہ پری جائےیا رب نہ ہماری دل لگی جائےسخی لکھنوی
  10. چشم مے گوں وہاں شراب لذیذدل سوزاں یہاں کباب لذیذسخی لکھنوی
  11. دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہےمرحبا پرورش علی ہی تو ہےسخی لکھنوی
  12. دل ہی میرا فقط ہے مطلب کایا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کاسخی لکھنوی
  13. دم یار تا نزع بھر لیجئےسخیؔ زندگی تک تو مر لیجئےسخی لکھنوی
  14. دولہن بھی اگر بن کے آئے گی راتہمیں بے تمہارے نہ بھائے گی راتسخی لکھنوی
  15. رخ پر ہے ملال آج کیسادل بر ہے ملال آج کیساسخی لکھنوی
  16. رخ روشن پہ صفا لوٹ گئیزلف پر کالی بلا لوٹ گئیسخی لکھنوی
  17. رخ روشن دکھائیے صاحبشمع کو کچھ جلائیے صاحبسخی لکھنوی
  18. زلف شب رنگ جو بنائی ہےان دنوں شانے کی بن آئی ہےسخی لکھنوی
  19. سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپاجی کچھ خیر بھی ہے ہیں کدھر آپسخی لکھنوی
  20. عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخسیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخسخی لکھنوی
  21. عشق ہے یار کا خدا حافظامر دشوار کا خدا حافظسخی لکھنوی
  22. قاصد ترے بار بار آئےایک ہفتہ میں تین چار آئےسخی لکھنوی
  23. قبر میں اب کسی کا دھیان نہیںسچ ہے جب جی نہیں جہان نہیںسخی لکھنوی
  24. گفتگو ہو دبی زبان بہتہیں لگائے رقیب کان بہتسخی لکھنوی
  25. گھر میں ساقیٔ مست کے چل کےآج ساغر شراب کا چھلکےسخی لکھنوی
  26. ماہ نو پردۂ سحاب میں ہےیا کہ ابرو کوئی نقاب میں ہےسخی لکھنوی
  27. منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیںگھر سے واعظ کہیں فاضل تو نہیںسخی لکھنوی
  28. ناخوش جو ہو گل بدن کسی کاکیا بھائے اسے سخن کسی کاسخی لکھنوی
  29. نسبت وہی ماہ آسماں سےلائیں تشبیہ رخ کہاں سےسخی لکھنوی
  30. نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی باتنہ کھلواؤ کہ چھوٹا منہ بڑی باتسخی لکھنوی
  31. ہم پہ جور و ستم کے کیا معنیترک رحم و کرم کے کیا معنیسخی لکھنوی
  32. ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کواب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کوسخی لکھنوی
  33. یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھےایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھےسخی لکھنوی
  34. یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گابیٹھیے آج کہاں جائیے گاسخی لکھنوی