Poetry
- اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیںسچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیںسخی لکھنوی
- ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیںہم کو رغبت اسے کیا کہتے ہیںسخی لکھنوی
- ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتاتو یہ سکہ ہمارا چل جاتاسخی لکھنوی
- بام پر آتا ہے ہمارا چاندآسماں سے کرے کنارا چاندسخی لکھنوی
- بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیںتو غنچہ ہر طرف چٹکی بجائیںسخی لکھنوی
- پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیادل تو تھا ہی نہیں چراتے کیاسخی لکھنوی
- پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرحپھر کجی پر ہیں وہ ابرو کی طرحسخی لکھنوی
- تم اگر دو نہ پیرہن اپناچرخ سے مانگ لوں کفن اپناسخی لکھنوی
- جی جائے مگر نہ وہ پری جائےیا رب نہ ہماری دل لگی جائےسخی لکھنوی
- چشم مے گوں وہاں شراب لذیذدل سوزاں یہاں کباب لذیذسخی لکھنوی
- دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہےمرحبا پرورش علی ہی تو ہےسخی لکھنوی
- دل ہی میرا فقط ہے مطلب کایا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کاسخی لکھنوی
- دم یار تا نزع بھر لیجئےسخیؔ زندگی تک تو مر لیجئےسخی لکھنوی
- دولہن بھی اگر بن کے آئے گی راتہمیں بے تمہارے نہ بھائے گی راتسخی لکھنوی
- رخ پر ہے ملال آج کیسادل بر ہے ملال آج کیساسخی لکھنوی
- رخ روشن پہ صفا لوٹ گئیزلف پر کالی بلا لوٹ گئیسخی لکھنوی
- رخ روشن دکھائیے صاحبشمع کو کچھ جلائیے صاحبسخی لکھنوی
- زلف شب رنگ جو بنائی ہےان دنوں شانے کی بن آئی ہےسخی لکھنوی
- سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپاجی کچھ خیر بھی ہے ہیں کدھر آپسخی لکھنوی
- عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخسیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخسخی لکھنوی
- عشق ہے یار کا خدا حافظامر دشوار کا خدا حافظسخی لکھنوی
- قاصد ترے بار بار آئےایک ہفتہ میں تین چار آئےسخی لکھنوی
- قبر میں اب کسی کا دھیان نہیںسچ ہے جب جی نہیں جہان نہیںسخی لکھنوی
- گفتگو ہو دبی زبان بہتہیں لگائے رقیب کان بہتسخی لکھنوی
- گھر میں ساقیٔ مست کے چل کےآج ساغر شراب کا چھلکےسخی لکھنوی
- ماہ نو پردۂ سحاب میں ہےیا کہ ابرو کوئی نقاب میں ہےسخی لکھنوی
- منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیںگھر سے واعظ کہیں فاضل تو نہیںسخی لکھنوی
- ناخوش جو ہو گل بدن کسی کاکیا بھائے اسے سخن کسی کاسخی لکھنوی
- نسبت وہی ماہ آسماں سےلائیں تشبیہ رخ کہاں سےسخی لکھنوی
- نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی باتنہ کھلواؤ کہ چھوٹا منہ بڑی باتسخی لکھنوی
- ہم پہ جور و ستم کے کیا معنیترک رحم و کرم کے کیا معنیسخی لکھنوی
- ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کواب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کوسخی لکھنوی
- یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھےایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھےسخی لکھنوی
- یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گابیٹھیے آج کہاں جائیے گاسخی لکھنوی