Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیںآسیب خموشی کے صباؔ چیخ پڑے ہیںSaba Ikram (b. 1945)
  2. اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہےمیرے پیچھے جو صباؔ گھر میں مرے رہتی ہےSaba Ikram (b. 1945)
  3. ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاںلے جائیں ہم اٹھا کے یہ شیشے کا گھر کہاںSaba Ikram (b. 1945)
  4. تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میںگوتم آیا گوتم آیا شور مچا ہے گاؤں میںSaba Ikram (b. 1945)
  5. چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانیپانی تمہیں ہرگز نہ صباؔ دے گا یہ پانیSaba Ikram (b. 1945)
  6. دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھےدکھ تو پہلے بھی تھے پر اتنے گھنیرے کب تھےSaba Ikram (b. 1945)
  7. زندگانی ہنس کے طے اپنا سفر کر جائے گییوں اجل کا معجزہ اک روز سر کر جائے گیSaba Ikram (b. 1945)
  8. قدموں تلے تو دیکھ کے مجھ کو نہ طنز کرسایہ ہوں دن ڈھلا تو میں ہوں گا طویل ترSaba Ikram (b. 1945)
  9. کب کھیت امیدوں کے تہہ آب نہ آئےکس رت میں نراشاؤں کے سیلاب نہ آئےSaba Ikram (b. 1945)
  10. لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لےوہ پیڑ نیم کا مرے اندر نہ دیکھ لےSaba Ikram (b. 1945)
  11. لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکرسہما سا ڈرا سا ہے کھڑا زیست کا لشکرSaba Ikram (b. 1945)
  12. وقت کے دشت میں چونکے ہوئے آہو کی طرحہم پریشان ازل سے رہے خوشبو کی طرحSaba Ikram (b. 1945)
  13. ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہےاکرامؔ اپنی سانس بھی تلوار ہی تو ہےSaba Ikram (b. 1945)
  14. ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نےتمام عمر پھروں در بدر لکھا اس نےSaba Ikram (b. 1945)
  15. اور ہر شب اسی آگ سےاب گزرتا ہوں میںSaba Ikram (b. 1945)
  16. بچھڑی ہوئی گلیوں کییادوں کا وہ میٹھا ذائقہSaba Ikram (b. 1945)
  17. برہنہ پنڈلی پہسانپ خواہش کی انگلیوں کےSaba Ikram (b. 1945)
  18. پیاس کےگہرے دریاؤں کے بیچSaba Ikram (b. 1945)
  19. کنوارے کھیت میری خواہشوں کےتشنگی کی دھوپ میںSaba Ikram (b. 1945)
  20. تھکی ہاری چڑیوں کےاک غول کی طرحSaba Ikram (b. 1945)
  21. مرے گرداب لال پیلی دواؤں کیSaba Ikram (b. 1945)
  22. ابھی تو نظروں کے لب پہ تازہلہو میں ڈوبے ہر ایک منظر کا ذائقہ ہےSaba Ikram (b. 1945)
  23. اپنی بے چہرگیاوٹ میں نام کی تختیوں کی رہیSaba Ikram (b. 1945)
  24. سیہ رنگ چادر تنی رات کیجس پہSaba Ikram (b. 1945)
  25. صبح کے زعفرانی لبوں پرجو شفقت کی ہلکی سی مسکان تھیSaba Ikram (b. 1945)
  26. ہتھیلی کی لکیروں پرگرامو فون کی سوئی گھما کرSaba Ikram (b. 1945)