Poetry
- آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیںآسیب خموشی کے صباؔ چیخ پڑے ہیںSaba Ikram (b. 1945)
- اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہےمیرے پیچھے جو صباؔ گھر میں مرے رہتی ہےSaba Ikram (b. 1945)
- ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاںلے جائیں ہم اٹھا کے یہ شیشے کا گھر کہاںSaba Ikram (b. 1945)
- تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میںگوتم آیا گوتم آیا شور مچا ہے گاؤں میںSaba Ikram (b. 1945)
- چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانیپانی تمہیں ہرگز نہ صباؔ دے گا یہ پانیSaba Ikram (b. 1945)
- دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھےدکھ تو پہلے بھی تھے پر اتنے گھنیرے کب تھےSaba Ikram (b. 1945)
- زندگانی ہنس کے طے اپنا سفر کر جائے گییوں اجل کا معجزہ اک روز سر کر جائے گیSaba Ikram (b. 1945)
- قدموں تلے تو دیکھ کے مجھ کو نہ طنز کرسایہ ہوں دن ڈھلا تو میں ہوں گا طویل ترSaba Ikram (b. 1945)
- کب کھیت امیدوں کے تہہ آب نہ آئےکس رت میں نراشاؤں کے سیلاب نہ آئےSaba Ikram (b. 1945)
- لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لےوہ پیڑ نیم کا مرے اندر نہ دیکھ لےSaba Ikram (b. 1945)
- لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکرسہما سا ڈرا سا ہے کھڑا زیست کا لشکرSaba Ikram (b. 1945)
- وقت کے دشت میں چونکے ہوئے آہو کی طرحہم پریشان ازل سے رہے خوشبو کی طرحSaba Ikram (b. 1945)
- ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہےاکرامؔ اپنی سانس بھی تلوار ہی تو ہےSaba Ikram (b. 1945)
- ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نےتمام عمر پھروں در بدر لکھا اس نےSaba Ikram (b. 1945)
- اور ہر شب اسی آگ سےاب گزرتا ہوں میںSaba Ikram (b. 1945)
- بچھڑی ہوئی گلیوں کییادوں کا وہ میٹھا ذائقہSaba Ikram (b. 1945)
- برہنہ پنڈلی پہسانپ خواہش کی انگلیوں کےSaba Ikram (b. 1945)
- پیاس کےگہرے دریاؤں کے بیچSaba Ikram (b. 1945)
- کنوارے کھیت میری خواہشوں کےتشنگی کی دھوپ میںSaba Ikram (b. 1945)
- تھکی ہاری چڑیوں کےاک غول کی طرحSaba Ikram (b. 1945)
- مرے گرداب لال پیلی دواؤں کیSaba Ikram (b. 1945)
- ابھی تو نظروں کے لب پہ تازہلہو میں ڈوبے ہر ایک منظر کا ذائقہ ہےSaba Ikram (b. 1945)
- اپنی بے چہرگیاوٹ میں نام کی تختیوں کی رہیSaba Ikram (b. 1945)
- سیہ رنگ چادر تنی رات کیجس پہSaba Ikram (b. 1945)
- صبح کے زعفرانی لبوں پرجو شفقت کی ہلکی سی مسکان تھیSaba Ikram (b. 1945)
- ہتھیلی کی لکیروں پرگرامو فون کی سوئی گھما کرSaba Ikram (b. 1945)