اور ہر شب اسی آگ سے
Saba Ikram (b. 1945)اور ہر شب اسی آگ سے
اب گزرتا ہوں میں
ان کئے پاپ کی
یوں سزا کاٹتا ہوں
کہ شاید کسی صبح
شیشے کو دیکھوں
تو ماتھے پہ میرے یہ کالک نہ ہو
رام کی نیچی نظریں اٹھیں
اور چھما کے حسیں پھول
مجھ پر نچھاور کریں
قہر آتش
بنے بھاگ بہروپئے کا
مگر کاش دل مان لے
میں وہ سیتا نہیں ہوں
جسے صرف اک بار
اس امتحاں سے گزرنا پڑا تھا
کہ میرا ہرن تو
اسی طرح ہر روز ہوگا
کہ ہر صبح راون ہے
ہر رات اگنی پریکشا مقدر مرا