بچھڑی ہوئی گلیوں کی

Saba Ikram (b. 1945)

بچھڑی ہوئی گلیوں کی

یادوں کا وہ میٹھا ذائقہ

احساس کے ہونٹوں پہ اپنے

میں لئے در در پھرا

مٹی کی سوندھی باس

صحرا میں متاع جاں تھی

میرے واسطے اب تک

یہ کیا ہوا

کیوں یک بیک

اپنے لہو کا ذائقہ

اپنی زباں پر پھیل کر

دل میں حقیقت کے چراغوں کی لویں

کجلا گیا

اخبار کی خبروں کے آگے

آیتیں قرآن کی

گیتا کے سب اشلوک مدھم پڑ گئے

نظروں میں مستحسن

زنا کا جرم ٹھہرا

دودھ ماں سے بخشوانے کی تمنا

آج مردہ ہو گئی