پیاس کے

Saba Ikram (b. 1945)

پیاس کے

گہرے دریاؤں کے بیچ

میں اک جزیرے میں بیٹھا

خود اپنی ہی آنکھوں کا

صدیوں سے ہوں منتظر

ایک دن

ان کو احساس کی ناؤ پر

بہتے جھرنوں کے پیچھے

روانہ کیا تھا

کہ وہ میٹھے پانی سے

حصہ مرا مانگ لائیں

تو میں قرض

تشنہ لبی کا اتاروں

مگر اب یہ لگتا ہے

بہتے ہوئے پانیوں میں کہیں

بہتے خوابوں کے ہم راہ

آنکھیں مری بہہ گئی ہیں

کہ میرا مقدر

سمندر کا اگلا ہوا جھاگ ہے