اپنی بے چہرگی

Saba Ikram (b. 1945)

اپنی بے چہرگی

اوٹ میں نام کی تختیوں کی رہی

دل کی تاریکیاں

جگمگاہٹ میں ملبوس کی چھپ گئیں

لب پہ تنویر جاگی

تو ہم نے یہ سمجھا

چلو اجنبی اب شناسا ہوئے

شہر کے اونچے مینار پر

چند مٹی کے رنگیں کبوتر سجے

جشن آزادیٔ قوم و ملت

منایا گیا

اک خلا درمیاں تھا

سو قائم رہا

گرمی برسات جاڑے کی بدلی رتوں میں

ہر اک فرد

پہچان اپنی گنوا کر

ڈھلا موم کی مورتوں میں

ہر اک شکل اب جیسے اپنی لگے

اور کوئی شکل اپنی نہیں

ہم ہوئے آج خود اپنے ہی شہر میں

نسل ننگ نشاں

نسل بے چہرگاں