برہنہ پنڈلی پہ

Saba Ikram (b. 1945)

برہنہ پنڈلی پہ

سانپ خواہش کی انگلیوں کے

جو سرسرائے

تو لذتوں کی ہتھیلیوں میں

کبوتروں کے گداز جسموں

کی دھیمی گرمی

سلگ اٹھی ہے

کہ کرب اپنے بدن کا

سوکھے لبوں سے

اب جھانکنے لگا ہے

خود اپنے خوں کا تیزاب

رگ رگ میں دوڑتا ہے

مجھے تو اب کوئی ناگ ڈس لے

کہ زہر ہی زہر کی دوا ہے