ہتھیلی کی لکیروں پر
Saba Ikram (b. 1945)ہتھیلی کی لکیروں پر
گرامو فون کی سوئی گھما کر
مست ہیں
سر دھن رہے ہیں
آئنے چپ چاپ ہیں
کالی شبیہیں
بند آنکھوں میں چمکتی ہیں یہاں
اب سرخ رو ہو کر
یہاں میں دور سے
ان سرمئی لہروں کے پیچھے بھاگ کر
آیا تھا
لیکن اب مرے تلووں کو
چکنی کائی کی
یہ مخملی نرمی بھی چبھتی ہے
اگر میں لوٹنا چاہوں تو رستے میں
وہی دھندلی ہتھیلی کی لکیریں ہیں
وہی لچھمن کی ریکھا ہے