Poetry
- اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھاجب تک موئے بلوں سے نکلنا محال تھاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیادیدۂ گریاں سے پردہ کھل گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بتوں کی اگر خود نمائی نہ دیکھوںان آنکھوں سے یا رب خدائی نہ دیکھوںPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپرآ جائے نہ آفت کہیں دو چار کے اوپرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بند کر روزن در چاہو کہ رخنہ نہ رہےتاک پر دیکھے نہیں جھانکنے والے تم نےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرےرو رو کے آنکھ بھرتی ہے پیمانہ کیا کرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گےزلف کرتی ہے بل سمجھ لیں گےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہاراتمہارے ہمارے ہمارا تمہاراPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئےارمان آج دل کے ہمارے نکل گئےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئیحلقۂ غم میں طبیعت گھر گئیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گیکیا یہ دنیا عاقبت بخشائے گیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیاشیشے کے خالی ہوتے ہی پیمانہ بھر گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جسے دیکھا ترا جویا ہے پیارےتجھی کو ڈھونڈھنے کھویا ہے پیارےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جلد و ماہ تُو گھر سے نکلاشکر ہے چاند کدھر سے نکلاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنیتیرے خاطر منہ کو دکھلاتی ہے تارا چاندنیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- چشم نم ہو تُو امنڈ آتے ہیں دریا منہ پرکھینچیے آہ تُو آتا ہے ، کلیجا منہ پرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوابرنگ سبزۂ بیگانہ پائمال ہواPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- خم نہ بن کر خود غرض ہو جائیےمثل ساغر اور کے کام آئیےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- خوں بہا کا خط لا دعوی دیاجی لیا تھا اسے ناحق جی دیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- در رہا سب پہ جو سخنور ہےشعر تیغ زباں کا جوہر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرےکچھ جگر ہو تو دم انسان بھرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہےبند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہےبندہ خانی میں خداوند جہاں رہتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھیا رب نہ کبھی ہاتھ کا ہو دست نگر ہاتھPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پرکیجے نگاہ حال سلیمان و مور پرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- ساقی قدح شراب دے دےمہتاب میں آفتاب دے دےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پرساقی لنڈھا شراب کو مستوں کے نام پرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- عشق کی خوبی کہوں کیا آشناجان کا دشمن ہے دل کا آشناPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- عشق میں دل بن کے دیوانہ چلاآشنا سے ہو کے بیگانہ چلاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- قرار پر نہ ملو اضطراب ہو کے نہ ہوشراب غیر کو دو دِل کباب ہو کے نہ ہوPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبحتا دہان شام پہنچاتا ہے رازق نان صبحPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- کیوں خفا رشک حور ہوتا ہےآدمی سے قصور ہوتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- محتسب سے ہوئی دم بھر بھی جُو محفل خالیجی میرا جام کا شیشہ کا ہوا دِل خالیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھےجو دل لیا ہے تو قیمت دلائیے نہ مجھےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- نام پر حرف نہ آنے دیجےجان اگر جائے تو جانے دیجےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتاتو چشم بد کو میں آنکھوں کا تل جلا لیتاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسیدل ہی نہ ملا تو آشنائی کیسیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- یاد میں اس سرو قد کے دل مراصورت سرو چراغاں جل گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہےغیر اپنا کون اپنا غیر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بالیں پہ ہو اے جان جُو رعنائی سے گزرےمردہ میرا دیکھے جُو مسیحائی سے گزرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرمحق جو پوچھو ایک در ہے دو طرفPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- گلزار نسیمPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بتوں کی گلی چھوڑ کر کون جائےیہیں سے ہے کعبہ کو سجدہ ہماراPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- تھا سم پہ یہ اس پری کا نقشہسب آنکھ ملا کہتے تھے آPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جو دن کو نکلو تو خورشید گرد سر گھومےچلو جو شب کو تو قدموں پہ ماہتاب گرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- چلا دختر رز کو لے کر جو ساقیفرشتہ ہوئے ساتھ گھر دیکھنے کوPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- دوزخ و جنت ہیں اب میری نظر کے سامنےگھر رقیبوں نے بنایا اس کے گھر کے سامنےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- لائے اس بت کو التجا کر کےکفر ٹوٹا خدا خدا کر کےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- مکان سینہ کا پاتا ہوں دم بدم خالینظر بچا کے تو اے دل کدھر کو جاتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)