Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خوابشب کے شجر پہ نیند کی صورت پڑے ہیں خوابNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  2. آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرتبہنے لگا ہے آنکھ سے پانی پرت پرتNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  3. اس مقدمے پر بھی اک مقدمہ ہوگا زور و شور سے ہوگا اور آج ہی ہوگاروز میں بکھرتا ہوں روز ہی بکھرتا ہے میرے گھر کا شیرازہ تم کرو جو اندازہNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  4. اک یہی اب مرا حوالہ ہےروح زخمی ہے جسم چھالا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  5. ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہودل کے ہر زخم میں دریاؤں کی گہرائی ہوNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  6. ایسے وہ داستان کھینچتا ہےہر یقیں پر گمان کھینچتا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  7. بجھتی مشعل کی التجا جیسےلوگ ہم کو ملے ہوا جیسےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  8. بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہابدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  9. تری تلاش میں ہے سائبان بھی ہم بھیہمارے ساتھ ہماری تھکان بھی ہم بھیNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  10. تم نے کیا ہے تم نے اشارا بہت غلطدریا بہت درست کنارا بہت غلطNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  11. تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلطموج طلب نے پایا کنارا غلط غلطNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  12. تو نہ آئے گا مجھے جب سے یقیں آ گیا ہےآسماں جیسے مرا زیر زمیں آ گیا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  13. تیری تلاش تیری تمنا تو میں بھی ہوںجیسا ترا خیال ہے ویسا تو میں بھی ہوںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  14. تیری خواہش نہ جب زیادہ تھیزندگی جیسے بے لبادہ تھیNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  15. جب سے امید باندھی پتھر پردھول سی جم گئی مقدر پرNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  16. جلن کے خوف سے باہر نکل سکو تو چلوبچھی ہے دھوپ ہی رستوں میں چل سکو تو چلوNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  17. جو نقش مٹ چکا ہے بنانا تو ہے نہیںاجڑا دیار ہم نے بسانا تو ہے نہیںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  18. چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیںموسم ایسے ہوش اڑانے لگتے ہیںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  19. چراغ ظلمت بے نور میں جلانا تراپسند آیا نہ لوگوں کو آستانہ تراNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  20. چور تھے لوگ جو سنگینیٔ ہجرت سے یہاںسانس بھی آتا نہیں ان کو سہولت سے یہاںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  21. دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھاجیسے مرے وجود پہ چہرہ اسی کا تھاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  22. دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیےہو سکے تو ان کی تھوڑی غم گساری کیجیےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  23. دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی توکاٹ ڈالے گا مرا دست ہنر یعنی توNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  24. زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائےاور کیا چاہئے جو بار دگر ہو جائےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  25. سر جھکا کر شاہ کے دربار میںچھید ہم نے سو کیے دستار میںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  26. صورت گل کبھی زلفوں میں سجا کر لے جائےجب بھی چاہے وہ مجھے اپنا بنا کر لے جائےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  27. طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنامیرے پاؤں میں کسی لمبے سفر کا جاگناNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  28. فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئیاماں کی کوئی جگہ ہی نہیں بنائی گئیNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  29. کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہےہر اک چراغ ہمارا دھویں کی زد میں ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  30. کسی کو خار کسی سانس کو ببول کیاجو ہم نے کار محبت کیا فضول کیاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  31. کہیں جو عزم ذرا حوصلہ نکل آئےفصیل غم سے نیا راستا نکل آئےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  32. لہو کی آنچ جیسا ہو رہا ہےتمہارا غم ستارہ ہو رہا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  33. وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والےتو کہاں ہے مری بنیاد اٹھانے والےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  34. ہر بدن کو اب یہاں ایسا گہن لگنے لگاجس کو دیکھو اب وہی بے پیرہن لگنے لگاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  35. ہر قدم پاؤں میں ہیں انگارےتیری رائے ہے کیا خدا بارےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  36. ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کےتمام عمر اٹھائے ہیں ناز پتھر کےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  37. ہزار کوشش پیہم کے باوجود ہمیںتمام عمر کوئی دوست با وفا نہ ملاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  38. ہم کو یہ ڈر ہے کہ امکان کسی اور کا ہےیعنی وہ شخص نگہبان کسی اور کا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  39. یہ حادثہ بھی سر رہ گزار ہونا تھاتری تلاش میں مجھ کو غبار ہونا تھاNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  40. یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہےلہو انساں کا سستا ہو رہا ہےNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)