Poetry
- اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھاجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
- اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
- اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہےانعام اللہ خاں یقین
- بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتےجو ہم بھی چھوٹ جاتے اب تو کیا دیوانہ پن کرتےانعام اللہ خاں یقین
- تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبتانعام اللہ خاں یقین
- ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئیانعام اللہ خاں یقین
- چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہےکبھی آنکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتا ہےانعام اللہ خاں یقین
- چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصلدکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصلانعام اللہ خاں یقین
- حق مجھے باطل آشنا نہ کرےمیں بتوں سے پھروں خدا نہ کرےانعام اللہ خاں یقین
- دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرفخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرفانعام اللہ خاں یقین
- دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیںانعام اللہ خاں یقین
- سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھاہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھاانعام اللہ خاں یقین
- شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانےانعام اللہ خاں یقین
- شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھومصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھوانعام اللہ خاں یقین
- عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھےنہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھےانعام اللہ خاں یقین
- عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاںانعام اللہ خاں یقین
- کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیاجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیاانعام اللہ خاں یقین
- کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرضانعام اللہ خاں یقین
- کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاجانعام اللہ خاں یقین
- کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیںسجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیںانعام اللہ خاں یقین
- کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگےانعام اللہ خاں یقین
- کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووےہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووےانعام اللہ خاں یقین
- گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کرنہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کرانعام اللہ خاں یقین
- گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیےانعام اللہ خاں یقین
- محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالیکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالیانعام اللہ خاں یقین
- مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاںجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاںانعام اللہ خاں یقین
- مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھےجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھےانعام اللہ خاں یقین
- منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بسدل مرا عشق میں ایسا ہے جگر دار کہ بسانعام اللہ خاں یقین
- وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیںاس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیںانعام اللہ خاں یقین
- ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میراآب و رنگ آگ سے رکھتا ہے گلستاں میراانعام اللہ خاں یقین
- یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہےکون اس کوچے میں جز تیرے گزر کرتا ہےانعام اللہ خاں یقین
- یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوےانعام اللہ خاں یقین
- پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھومباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھومانعام اللہ خاں یقین
- جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میںکس کس طرح کی باتیں آتی ہیں میرے من میںانعام اللہ خاں یقین
- نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزراہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزراانعام اللہ خاں یقین