Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھاجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
  2. اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
  3. اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہےانعام اللہ خاں یقین
  4. بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتےجو ہم بھی چھوٹ جاتے اب تو کیا دیوانہ پن کرتےانعام اللہ خاں یقین
  5. تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبتانعام اللہ خاں یقین
  6. ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئیانعام اللہ خاں یقین
  7. چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہےکبھی آنکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتا ہےانعام اللہ خاں یقین
  8. چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصلدکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصلانعام اللہ خاں یقین
  9. حق مجھے باطل آشنا نہ کرےمیں بتوں سے پھروں خدا نہ کرےانعام اللہ خاں یقین
  10. دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرفخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرفانعام اللہ خاں یقین
  11. دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیںانعام اللہ خاں یقین
  12. سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھاہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھاانعام اللہ خاں یقین
  13. شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانےانعام اللہ خاں یقین
  14. شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھومصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھوانعام اللہ خاں یقین
  15. عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھےنہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھےانعام اللہ خاں یقین
  16. عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاںانعام اللہ خاں یقین
  17. کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیاجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیاانعام اللہ خاں یقین
  18. کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرضانعام اللہ خاں یقین
  19. کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاجانعام اللہ خاں یقین
  20. کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیںسجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیںانعام اللہ خاں یقین
  21. کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگےانعام اللہ خاں یقین
  22. کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووےہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووےانعام اللہ خاں یقین
  23. گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کرنہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کرانعام اللہ خاں یقین
  24. گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیےانعام اللہ خاں یقین
  25. محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالیکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالیانعام اللہ خاں یقین
  26. مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاںجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاںانعام اللہ خاں یقین
  27. مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھےجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھےانعام اللہ خاں یقین
  28. منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بسدل مرا عشق میں ایسا ہے جگر دار کہ بسانعام اللہ خاں یقین
  29. وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیںاس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیںانعام اللہ خاں یقین
  30. ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میراآب و رنگ آگ سے رکھتا ہے گلستاں میراانعام اللہ خاں یقین
  31. یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہےکون اس کوچے میں جز تیرے گزر کرتا ہےانعام اللہ خاں یقین
  32. یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوےانعام اللہ خاں یقین
  33. پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھومباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھومانعام اللہ خاں یقین
  34. جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میںکس کس طرح کی باتیں آتی ہیں میرے من میںانعام اللہ خاں یقین
  35. نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزراہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزراانعام اللہ خاں یقین