Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہاباقی صدیقی
  2. اپنی دھوپ میں بھی کچھ جلہر سائے کے ساتھ نہ ڈھلباقی صدیقی
  3. اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیاباقی صدیقی
  4. اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسےباقی صدیقی
  5. ایسا وار پڑا سر کابھول گئے رستہ گھر کاباقی صدیقی
  6. تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیںباقی صدیقی
  7. تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوںباقی صدیقی
  8. جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئےباقی صدیقی
  9. خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میںباقی صدیقی
  10. داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےباقی صدیقی
  11. دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہےباقی صدیقی
  12. دل سے باہر ہیں خریدار ابھیسامنے ہے بھرا بازار ابھیباقی صدیقی
  13. رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نےعظمت عشق بڑھا دی ہم نےباقی صدیقی
  14. رنگ دل رنگ نظر یاد آیاتیرے جلووں کا اثر یاد آیاباقی صدیقی
  15. کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہوباقی صدیقی
  16. کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنااور کچھ نشہ چڑھا ہے اپناباقی صدیقی
  17. کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلطگل غلط غنچے غلط خار غلطباقی صدیقی
  18. مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہواتو کہاں آ کے عناں گیر ہواباقی صدیقی
  19. مرحلے زیست کے آسان ہوئےشہر کچھ اور بھی ویران ہوئےباقی صدیقی
  20. وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائےبہت روئے مگر رونے نہ پائےباقی صدیقی
  21. وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہمباقی صدیقی
  22. وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہیمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہیباقی صدیقی
  23. ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائےباقی صدیقی
  24. ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کےدیکھو ہمیں بام سے اتر کےباقی صدیقی
  25. ہم کہاں آئنہ لے کر آئےلوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئےباقی صدیقی
  26. یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیںاپنی زنجیر ہلا دیتے ہیںباقی صدیقی
  27. ان کا یا اپنا تماشا دیکھوجو دکھاتا ہے زمانہ دیکھوباقی صدیقی
  28. تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیاباقی صدیقی
  29. صبح کا بھید ملا کیا ہم کولگ گیا رات کا دھڑکا ہم کوباقی صدیقی
  30. ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلادیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلاباقی صدیقی
  31. وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیںباقی صدیقی
  32. وہ مقام دل و جاں کیا ہوگاتو جہاں آخری پردا ہوگاباقی صدیقی