Poetry
- آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہاباقی صدیقی
- اپنی دھوپ میں بھی کچھ جلہر سائے کے ساتھ نہ ڈھلباقی صدیقی
- اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیاباقی صدیقی
- اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسےباقی صدیقی
- ایسا وار پڑا سر کابھول گئے رستہ گھر کاباقی صدیقی
- تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیںباقی صدیقی
- تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوںباقی صدیقی
- جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئےباقی صدیقی
- خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میںباقی صدیقی
- داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےباقی صدیقی
- دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہےباقی صدیقی
- دل سے باہر ہیں خریدار ابھیسامنے ہے بھرا بازار ابھیباقی صدیقی
- رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نےعظمت عشق بڑھا دی ہم نےباقی صدیقی
- رنگ دل رنگ نظر یاد آیاتیرے جلووں کا اثر یاد آیاباقی صدیقی
- کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہوباقی صدیقی
- کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنااور کچھ نشہ چڑھا ہے اپناباقی صدیقی
- کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلطگل غلط غنچے غلط خار غلطباقی صدیقی
- مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہواتو کہاں آ کے عناں گیر ہواباقی صدیقی
- مرحلے زیست کے آسان ہوئےشہر کچھ اور بھی ویران ہوئےباقی صدیقی
- وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائےبہت روئے مگر رونے نہ پائےباقی صدیقی
- وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہمباقی صدیقی
- وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہیمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہیباقی صدیقی
- ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائےباقی صدیقی
- ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کےدیکھو ہمیں بام سے اتر کےباقی صدیقی
- ہم کہاں آئنہ لے کر آئےلوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئےباقی صدیقی
- یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیںاپنی زنجیر ہلا دیتے ہیںباقی صدیقی
- ان کا یا اپنا تماشا دیکھوجو دکھاتا ہے زمانہ دیکھوباقی صدیقی
- تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیاباقی صدیقی
- صبح کا بھید ملا کیا ہم کولگ گیا رات کا دھڑکا ہم کوباقی صدیقی
- ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلادیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلاباقی صدیقی
- وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیںباقی صدیقی
- وہ مقام دل و جاں کیا ہوگاتو جہاں آخری پردا ہوگاباقی صدیقی