ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو

Ehtisham ul Haq Siddiqui

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو

موبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دو

آج تو پیاسے صبر کے گھر میں یکجا ہیں

دریاؤں کو آج اکیلا رونے دو

سوچ لو دل کو باہر چھوڑ کے آئے تو

ہم دو میں سے رہ جائیں گے پونے دو

آندھی نے جو بھر دی ہے ان آنکھوں میں

جانے کس کی گرد ہے آنکھیں دھونے دو

اس صوفہ پر لیٹ کے میں سو جاؤں گا

ان کے خواب کو بستر پر ہی سونے دو