آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے

بیان میرٹھی

آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہے

ہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہے

کچھ ہاتھ بجز کلوخ آنے کا نہیں

کم بخت فضول گرد سر پھرتا ہے