اور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہو
Ehtisham ul Haq Siddiquiاور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہو
دل کے اس پاگل خانے میں رہ سکتے ہو
میرے دل میں رہنا راس نہیں آیا تو
بے شک آنکھ سے آنسو بن کر بہہ سکتے ہو
تم سر تا پا آگ ہو میں ہوں ٹوٹل پانی
صاف ہے میرے ساتھ نہیں تم رہ سکتے ہو
پتھر وتھر ظالم والم بے حس ویحس
مجھ کو جو بھی کہنا چاہو کہہ سکتے ہو
مٹی ہوتا تو پی جاتا پر شیشہ ہوں
میرے اوپر بے فکری سے بہہ سکتے ہو