اپنے شب یاروں سے کس طرح میں غافل ہو جاؤں
Ehtisham ul Haq Siddiquiاپنے شب یاروں سے کس طرح میں غافل ہو جاؤں
آسماں جاگ رہا ہے تو میں کیسے سو جاؤں
دل بدر میں بھی ہوں اور تو بھی ہے معزول نظر
تو اجازت دے اگر مجھ کو میں تیرا ہو جاؤں
وقت نے اتنے بدلوائے ہیں چہرے مجھ سے
خوف ہے بھیڑ میں ان کی نہ کسی دن کھو جاؤں
جہل کی بانجھ زمینوں میں نہ اگ پاؤں گا
علم پرور ہو زمیں کوئی تو خود کو بو جاؤں
ابر غم دل کا برس جائے تو اس پانی سے
داغ دھبے ہیں جو آنکھوں میں انہیں بھی دھو جاؤں