میں نفس پرستی سے سدا خوار رہا

ساحر دہلوی

میں نفس پرستی سے سدا خوار رہا

ظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہا

غفلت سے نہ دم بھر کو مری آنکھ کھلی

بے ہوش رہا کبھی نہ ہشیار رہا