دل و نگاہ میں جیسے ٹھہر گیا موسم
Latif Shah Shahid (b. 1968)دل و نگاہ میں جیسے ٹھہر گیا موسم
تمہارے باد نہ بدلا یہ درد کا موسم
گزر چکے ہیں نظر سے ہزارہا موسم
کسی کے وعدۂ شب کا نہ آ سکا موسم
بچھڑ گئے ہو اگر تم تو مر نہ جاؤں گا
بچھڑ کے آپ سے مرنے کا تھا جدا موسم
خزاں کی رت بھی بہاروں کے ساتھ چلتی ہے
کہاں وو باغ کہ جس میں ہو ایک سا موسم
کہاں ی وصل کی بے کیف بے مزا گھڑیاں
کہاں وہ تیری جدائی کا خوش نما موسم