نیاز عشق کا ناموس لٹوانا بھی آتا ہے
Tabassum Azmi (b. 1968)نیاز عشق کا ناموس لٹوانا بھی آتا ہے
جو ابن الوقت ہیں ان کو بدل جانا بھی آتا ہے
جو کی ہے دوستی سورج سے تو محتاط بھی رہئے
ملائم دھوپ کو گلزار جھلسانا بھی آتا ہے
ذرا سی ٹھیس پر مانا بکھر جاتے ہیں ہم لیکن
ہمیں ریزوں کو چن چن کر سنور جانا بھی آتا ہے
سر تسلیم خم رکھتے ہیں یہ تہذیب ہے اپنی
اگر فرمان بے جا ہو تو ٹھکرانا بھی آتا ہے
بیابانوں کہستانوں میں بھٹکے لاکھ یہ لیکن
دل ناشاد کو گھر لوٹ کے آنا بھی آتا ہے