صبح دم آتی ہے اے ہند ترے آنچل سے
Tabassum Azmi (b. 1968)صبح دم آتی ہے اے ہند ترے آنچل سے
حمد کی نعت کی پوجا کی بھجن کی خوشبو
دھڑکنوں نے یہاں چھیڑی ہے محبت کی غزل
ہے فضاؤں میں اخوت کے سمن کی خوشبو
تیرے دامن میں اجنتا و حسیں تاج محل
تیرے کھیتوں میں ہے دہقاں کے جتن کی خوشبو
تیرے جھرنوں سے ابھرتے ہیں ترانے دل کش
روح سرشار کرے دشت و دمن کی خوشبو
میرؔ و غالبؔ ہوں کہ اقبالؔ یا چکبستؔ و فراقؔ
تیری مٹی میں بسی ان کے سخن کی خوشبو
رنگ کی نسل کی تہذیب کی ہے قوس قزح
ہے کہاں دہر میں یہ گنگ و جمن کی خوشبو
مجھ کو غربت میں بھی احساس وطن ہوتا ہے
جب بھی لاتی ہے صبا میرے وطن کی خوشبو
تیری مٹی پہ تصدق ہیں دل و جان سبھی
بھول سکتے نہیں ہم تیرے منن کی خوشبو
تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی دھنک کھلتی رہے
سدا آباد رہے تیرے چمن کی خوشبو