کچھ ایک پل جو بھلائے ہوئے سے لگتے ہیں

Tabassum Azmi (b. 1968)

کچھ ایک پل جو بھلائے ہوئے سے لگتے ہیں

نظر میں اب بھی سمائے ہوئے سے لگتے ہیں

یہ انتظار کے لمحوں کا ہے عجیب فریب

وہ آ رہے ہیں وہ آئے ہوئے سے لگتے ہیں

ہوئی ہے یوں تو بہت ان میں رنگ آمیزی

مگر یہ قصے سنائے ہوئے سے لگتے ہیں

ہر ایک بات میں گھولا ہے اس نے رس لیکن

تمام لفظ چبائے ہوئے سے لگتے ہیں

بہ وقت شام وہ جاگے ہیں ہاتھ ملتے ہوئے

اثاثہ سارا گنوائے ہوئے سے لگتے ہیں

یوں اوڑھے پھرتے ہیں مظلومیت کا دوشالہ

زمانے بھر کے ستائے ہوئے سے لگتے ہیں

ٹپک رہی ہے تبسمؔ سے ان کے بے زاری

جلے بھنے ہیں جلائے ہوئے سے لگتے ہیں