ان میں پوشیدہ ہیں حکمت کے خزانے کیا کیا

Tabassum Azmi (b. 1968)

ان میں پوشیدہ ہیں حکمت کے خزانے کیا کیا

کہہ گئے بات پتے کی ہیں سیانے کیا کیا

منہ کے بل آ گرے وہ جن کا ہوا پر تھا دماغ

وقت نے تاک کے سادھے ہیں نشانے کیا کیا

گھر پہنچنے میں ذرا دیر ہوئی بچوں کو

ہم نے بھی سوچ لیا اتنے میں جانے کیا کیا

کبھی افسانے کو پہناتے ہیں سچ کا جامہ

کبھی سچائی کے بنتے ہیں فسانے کیا کیا

نہ ملے عیب تو ترپائی ادھیڑو ساری

نکتہ چینی کو تبسمؔ ہیں بہانے کیا کیا