Poetry
Poet
Meter
- کوئی نظر ہو عقیدہ بہت ضروری ہےعمل پہ اپنے بھروسا بہت ضروری ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- کیوں نہ اب دیکھ لیں ہم بے سر و ساماں ہو کرزندگی کیسے گزرتی ہے پریشاں ہو کرVaqar Siddiqui (b. 1932)
- وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائےمیں چاہتا ہوں کہ ظلمت تمام ہو جائےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- اب بھیغم کے صحراؤں میںVaqar Siddiqui (b. 1932)
- ایکتا میں طاقت ہےایکتا محبت ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- بم برساؤآگ لگاؤVaqar Siddiqui (b. 1932)
- ہم دیوانےدنیا بھر کےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرااجنبی ہاتھ بدلتے رہے محور میراPartav Rohila (1932–2016)
- اس دشت ہلاکت سے گزر کون کرے گابے امن خرابوں میں سفر کون کرے گاPartav Rohila (1932–2016)
- اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھیسچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھیPartav Rohila (1932–2016)
- حرص مال و منال میں کھویاہم نے فردا بھی حال میں کھویاPartav Rohila (1932–2016)
- ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابابھور بھئے تک اس کٹیا میں سو جاؤ باباPartav Rohila (1932–2016)
- میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتادل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتاPartav Rohila (1932–2016)
- وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہےرخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہےPartav Rohila (1932–2016)
- حسین کافوری انگلیوں میں سفید سگریٹ لیےوہ لڑکی کھڑی کھڑی اپنے شنگرفی نرم ہونٹوں سے یوں لگاتیPartav Rohila (1932–2016)
- کوئی کپڑے پہ بوٹے کاڑھے کوئی پھول بنائےکوئی اپنا بالک پالے کوئی گھر کو سجائےPartav Rohila (1932–2016)
- تمہیں یاد ہوگا کہ تم نے کہا تھاخوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہےPartav Rohila (1932–2016)
- چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلےجامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھےPartav Rohila (1932–2016)
- مرے پن کشن میں بہت سی پنیں ہیںاور اکثر پنیں اس میں ایسی ہیں جو دور انجانے ملکوںPartav Rohila (1932–2016)
- وقت نے سب بھلا دیا پرتوؔعشق کیا شے ہے عاشقی کیا ہےPartav Rohila (1932–2016)
- اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئیزندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئیGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- جسم تو مٹی میں ملتا ہے یہیں مرنے کے بعداس کو کیا روئیں جو مرتا ہی نہیں مرنے کے بعدGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہفرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- رہ عشق میں غم زندگی کی بھی زندگی سفری رہیکبھی نذر خاک سفر رہی کبھی موتیوں سے بھری رہیGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائےکیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جااے مری جان آرزو تو یوں ہی مسکرائے جاGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- کتنے جملے ہیں کہ جو روپوش ہیں یاروں کے بیچہم بھی مجرم کی طرح خاموش ہیں یاروں کے بیچGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوںذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوںGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- ارض دکن میں جان تو دلی میں دل بنیاور شہر لکھنؤ میں حنا بن گئی غزلGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیںمیرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- رات کی رات بہت دیکھ لی دنیا تیریصبح ہونے کو ہے اب طرزؔ کو سو جانے دےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- احباب میرے درد سے کچھ بے خبر نہ تھےیہ اور بات ہے وہ کوئی چارہ گر نہ تھےJ. P. Saeed (b. 1932)
- تھم گئے اشک بھی برسے ہوئے بادل کی طرحدل کی بیتابی وہی آج بھی ہے کل کی طرحJ. P. Saeed (b. 1932)
- خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوق غم تو ملاملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملاJ. P. Saeed (b. 1932)
- سحر کا نور ہے تاروں کا انعکاس نہیںفریب خوردہ ہو تم یا ضیا شناس نہیںJ. P. Saeed (b. 1932)
- شکست و فتح مقابل سے بے نیاز تو ہےبہ فیض دار و رسن عشق سرفراز تو ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- کچھ یاد نہیں اس کو کہ کیا بھول گیا ہےدل جیسے کہ جینے کی ادا بھول گیا ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- ہے ہماری دوستی کا یہی مختصر فسانہترا شوق خودنمائی مرا ذوق عاشقانہJ. P. Saeed (b. 1932)
- یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگےوہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگےJ. P. Saeed (b. 1932)
- یہ کسی نے تم سے غلط کہا مجھے کارواں کی تلاش ہےجہاں میں ہوں تم ہو کوئی نہ ہو مجھے اس جہاں کی تلاش ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھامجھ میں جو عکس بھی اترا تھا مرا اپنا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
- پھر ایک بار ترا تذکرہ نکل آیامجھے تراشا تو پیکر ترا نکل آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
- تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتامیں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتاKaifi Wijdani (b. 1932)
- جب خیمہ زنو! زور ہواؤں کا گھٹے گاخوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
- خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیاکس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
- خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوںجب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوںKaifi Wijdani (b. 1932)
- وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہوگااب اس نگاہ کا پتھر سے سامنا ہوگاKaifi Wijdani (b. 1932)
- وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھامیں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
- تمام شہر جسے چھوڑنے کو آیا ہےوہ شخص کتنا اکیلا سفر پہ نکلے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
- واپسیواپسیEjaaz Ahamd (b. 1932)