Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کوئی نظر ہو عقیدہ بہت ضروری ہےعمل پہ اپنے بھروسا بہت ضروری ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
  2. کیوں نہ اب دیکھ لیں ہم بے سر و ساماں ہو کرزندگی کیسے گزرتی ہے پریشاں ہو کرVaqar Siddiqui (b. 1932)
  3. وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائےمیں چاہتا ہوں کہ ظلمت تمام ہو جائےVaqar Siddiqui (b. 1932)
  4. اب بھیغم کے صحراؤں میںVaqar Siddiqui (b. 1932)
  5. ایکتا میں طاقت ہےایکتا محبت ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
  6. بم برساؤآگ لگاؤVaqar Siddiqui (b. 1932)
  7. ہم دیوانےدنیا بھر کےVaqar Siddiqui (b. 1932)
  8. اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرااجنبی ہاتھ بدلتے رہے محور میراPartav Rohila (1932–2016)
  9. اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گابے امن خرابوں میں سفر کون کرے گاPartav Rohila (1932–2016)
  10. اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھیسچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھیPartav Rohila (1932–2016)
  11. حرص مال و منال میں کھویاہم نے فردا بھی حال میں کھویاPartav Rohila (1932–2016)
  12. ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابابھور بھئے تک اس کٹیا میں سو جاؤ باباPartav Rohila (1932–2016)
  13. میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتادل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتاPartav Rohila (1932–2016)
  14. وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہےرخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہےPartav Rohila (1932–2016)
  15. حسین کافوری انگلیوں میں سفید سگریٹ لیےوہ لڑکی کھڑی کھڑی اپنے شنگرفی نرم ہونٹوں سے یوں لگاتیPartav Rohila (1932–2016)
  16. کوئی کپڑے پہ بوٹے کاڑھے کوئی پھول بنائےکوئی اپنا بالک پالے کوئی گھر کو سجائےPartav Rohila (1932–2016)
  17. تمہیں یاد ہوگا کہ تم نے کہا تھاخوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہےPartav Rohila (1932–2016)
  18. چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلےجامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھےPartav Rohila (1932–2016)
  19. مرے پن کشن میں بہت سی پنیں ہیںاور اکثر پنیں اس میں ایسی ہیں جو دور انجانے ملکوںPartav Rohila (1932–2016)
  20. وقت نے سب بھلا دیا پرتوؔعشق کیا شے ہے عاشقی کیا ہےPartav Rohila (1932–2016)
  21. اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئیزندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئیGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  22. جسم تو مٹی میں ملتا ہے یہیں مرنے کے بعداس کو کیا روئیں جو مرتا ہی نہیں مرنے کے بعدGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  23. دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہفرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  24. رہ عشق میں غم زندگی کی بھی زندگی سفری رہیکبھی نذر خاک سفر رہی کبھی موتیوں سے بھری رہیGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  25. سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائےکیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  26. سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جااے مری جان آرزو تو یوں ہی مسکرائے جاGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  27. کتنے جملے ہیں کہ جو روپوش ہیں یاروں کے بیچہم بھی مجرم کی طرح خاموش ہیں یاروں کے بیچGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  28. ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوںذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوںGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  29. ارض دکن میں جان تو دلی میں دل بنیاور شہر لکھنؤ میں حنا بن گئی غزلGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  30. داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیںمیرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  31. رات کی رات بہت دیکھ لی دنیا تیریصبح ہونے کو ہے اب طرزؔ کو سو جانے دےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  32. احباب میرے درد سے کچھ بے خبر نہ تھےیہ اور بات ہے وہ کوئی چارہ گر نہ تھےJ. P. Saeed (b. 1932)
  33. تھم گئے اشک بھی برسے ہوئے بادل کی طرحدل کی بیتابی وہی آج بھی ہے کل کی طرحJ. P. Saeed (b. 1932)
  34. خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوق غم تو ملاملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملاJ. P. Saeed (b. 1932)
  35. سحر کا نور ہے تاروں کا انعکاس نہیںفریب خوردہ ہو تم یا ضیا شناس نہیںJ. P. Saeed (b. 1932)
  36. شکست و فتح مقابل سے بے نیاز تو ہےبہ فیض دار و رسن عشق سرفراز تو ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
  37. کچھ یاد نہیں اس کو کہ کیا بھول گیا ہےدل جیسے کہ جینے کی ادا بھول گیا ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
  38. ہے ہماری دوستی کا یہی مختصر فسانہترا شوق خودنمائی مرا ذوق عاشقانہJ. P. Saeed (b. 1932)
  39. یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگےوہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگےJ. P. Saeed (b. 1932)
  40. یہ کسی نے تم سے غلط کہا مجھے کارواں کی تلاش ہےجہاں میں ہوں تم ہو کوئی نہ ہو مجھے اس جہاں کی تلاش ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
  41. آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھامجھ میں جو عکس بھی اترا تھا مرا اپنا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
  42. پھر ایک بار ترا تذکرہ نکل آیامجھے تراشا تو پیکر ترا نکل آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
  43. تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتامیں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتاKaifi Wijdani (b. 1932)
  44. جب خیمہ زنو! زور ہواؤں کا گھٹے گاخوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
  45. خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیاکس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
  46. خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوںجب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوںKaifi Wijdani (b. 1932)
  47. وہ آج لوٹ بھی آئے تو اس سے کیا ہوگااب اس نگاہ کا پتھر سے سامنا ہوگاKaifi Wijdani (b. 1932)
  48. وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھامیں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
  49. تمام شہر جسے چھوڑنے کو آیا ہےوہ شخص کتنا اکیلا سفر پہ نکلے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
  50. واپسیواپسیEjaaz Ahamd (b. 1932)