ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابا

Partav Rohila (1932–2016)

ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابا

بھور بھئے تک اس کٹیا میں سو جاؤ بابا

میرے پیار بچھونے کی سی میٹھی میٹھی تپ

ساری دنیا گھومو تب بھی نا پاؤ بابا

لمحے لمحے جینے والے کل کو کیا جانیں

میری مانو آج یہیں پر رہ جاؤ بابا

جیون میلے میں پھر جانے کب مل پائیں ہم

ہاتھ چھڑا کر اتنی جلدی مت جاؤ بابا

اس ضدی بالک نے خوں رلوایا جیون بھر

چندا مکھ والو کچھ تم ہی بہلاؤ بابا

یادوں کی پروائی اندر کیسے رستے ہیں

آشا کے چھالے محرومی کے گھاؤ بابا