کیوں نہ اب دیکھ لیں ہم بے سر و ساماں ہو کر

Vaqar Siddiqui (b. 1932)

کیوں نہ اب دیکھ لیں ہم بے سر و ساماں ہو کر

زندگی کیسے گزرتی ہے پریشاں ہو کر

رنگ و بو کی کوئی قیمت ہی بہاروں میں نہ تھی

آ گئے آج وہ خود جان گلستاں ہو کر

کشمکش ہی سی ستاروں کے ترنم میں رہی

اب جو آواز کوئی دے تو غزل خواں ہو کر

بزم آرائے چمن کو یہ ابھی کیا معلوم

بجھ گئیں شمعیں یہاں کتنی فروزاں ہو کر

جذبۂ فرض بھی ہے کیف محبت میں وقارؔ

غم تو ان کا بھی ہے لیکن غم دوراں ہو کر