نہ جانے زندگی کہاں ٹھہر گئی
Qaisarul Jafri (1926–2005)نہ جانے زندگی کہاں ٹھہر گئی
یہ فصل انتظار بھی گزر گئی
کھلا تھا اک دریچۂ فلک نما
مگر ہوا کا راستہ بدل گیا
تمام آسماں ہوا دھواں دھواں
زمیں کا ایک ایک خواب جل گیا
کھلی ہوئی فضا میں راکھ بھر گئی
رفاقتوں کا ترجماں تھا جو لہو
وہ اس تماشا گر صدی میں بہہ گیا
وہ درد مشترک جو روشنی بنے
پگھل کے وقت کی ندی میں بہہ گیا
ندی بدن کی تہہ تلک اتر گئی
درخت اپنے پھل کو خود ہی کھا گئے
زمیں کی گود میں گرا نہ کوئی بھی
سحر کے دست ناز بے حنا رہے
دعا کی آنکھ ساری رات روئی بھی
نہ جانے وہ ہوائے شب کدھر گئی
ہوائے سرد کہہ رہی ہے دیر سے
چراغ جاں بجھا کے سو بھی جائیے
سفر میں کون پوچھتا ہے حال دل
اداسیوں کے بیچ کھو بھی جائیے
نگاہ میں جو صبح تھی وہ مر گئی
منزلوں کے خواب کا قصور کیا
پشت کی طرف جو قافلہ چلے
جو رہروان تیز پا بھٹک گئے
تو ہم بھی نامرادیاں اٹھا چلے
زمین اپنے زلزلوں سے ڈر گئی