مرے ساتھ چلتے چلتے یہ کہاں ٹھہر گئے تم
Qaisarul Jafri (1926–2005)مرے ساتھ چلتے چلتے یہ کہاں ٹھہر گئے تم
شب غم کٹے گی کیسے جو ابھی سے ڈر گئے تم
وہاں شمع کیا جلے گی جہاں بجھ گئے مراسم
وہاں چاند کیا کرے گا جہاں شام کر گئے تم
مرے سامنے پڑا ہے ابھی آنسوؤں کا دریا
مرے ساتھ پانیوں میں یہ کہاں اتر گئے تم
جہاں دفن ہے محبت بڑی بے وفا جگہ تھی
نہ کبھی ادھر گئے ہم نہ کبھی ادھر گئے تم
کبھی آ کے دیکھ جاؤ مری محویت کا عالم
وہی درد چن رہا ہوں جو بکھیر کر گئے تم