Poetry
Poet
Meter
- کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھارو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشناMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کروں شرح خستہ جانی کیمیں نے مر مر کے زندگانی کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشقجان کا روگ ہے بلا ہے عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیاقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیںچھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیں اپنی اس کی شب کی باتکہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی باتMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہشیک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہشMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئےچپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیاکبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھاکون سے درد و ستم کا یہ طرف دار نہ تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھجی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا میں نے رو کر فشار گریباںرگ ابر تھا تار تار گریباںMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسیناناموس کو نے گھر ہے نہ در ہائے حسیناMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیالپرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیالMir Taqi Mir (1723–1810)
- کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھاکبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھوآرزو ہے کہ تم ادھر دیکھوMir Taqi Mir (1723–1810)
- گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میںان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میںMir Taqi Mir (1723–1810)
- گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئیرشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیاراتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کاخانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیںرہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کاجگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سابرقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب ساMir Taqi Mir (1723–1810)
- گل کو محبوب ہم قیاس کیافرق نکلا بہت جو پاس کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گل و بلبل بہار میں دیکھاایک تجھ کو ہزار میں دیکھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کیجلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سےیہی بات ہم چاہتے تھے خدا سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- لب ترے لعل ناب ہیں دونوںپر تمامی عتاب ہیں دونوںMir Taqi Mir (1723–1810)
- لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھااشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جاناMir Taqi Mir (1723–1810)
- لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شایدبگڑے تھے کچھ سنور گئے شایدMir Taqi Mir (1723–1810)
- مانند شمع مجلس شب اشکبار پایاالقصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایاMir Taqi Mir (1723–1810)
- مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہےیاں سلیماں کے مقابل مور ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوںتمہارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
- مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئیبے قراری کو جانے تب کوئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہےشمع مزار میر بجز آہ کون ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- محبت کا جب روز بازار ہوگابکیں گے سر اور کم خریدار ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
- مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتاMir Taqi Mir (1723–1810)
- مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میںکپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میںMir Taqi Mir (1723–1810)
- مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوںہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
- مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کےہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کےMir Taqi Mir (1723–1810)
- مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہےقرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاںجاتی ہیں لا مکاں کو دل شب کی زاریاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیاجیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کاحیرتی ہے یہ آئینہ کس کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرویعنی سایۂ سر و گل میں اب مجھ کو زنجیر کروMir Taqi Mir (1723–1810)
- موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہااس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہاMir Taqi Mir (1723–1810)