Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہر سمت پریشاں تری آمد کے قرینےدھوکے دئیے کیا کیا ہمیں باد سحری نےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  2. ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہےدشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  3. ہمت التجا نہیں باقیضبط کا حوصلہ نہیں باقیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  4. ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائیجس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  5. ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گےبے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  6. ہم نے سب شعر میں سنوارے تھےہم سے جتنے سخن تمہارے تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  7. ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھاسکوت ہجر کا اک غم شناس ہونا تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  8. ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہییہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  9. یاد غزال چشماں ذکر سمن عذاراںجب چاہا کر لیا ہے کنج قفس بہاراںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  10. یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شبدل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شبFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  11. یک بیک شورش فغاں کی طرحفصل گل آئی امتحاں کی طرحFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  12. یوں بہار آئی ہے اس بار کہ جیسے قاصدکوچۂ یار سے بے نیل مرام آتا ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  13. یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگیوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  14. یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالمترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  15. یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیاپھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  16. یہ موسم گل گرچہ طرب خیز بہت ہےاحوال گل و لالہ غم انگیز بہت ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  17. آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیالمدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  18. آج پھر درد و غم کے دھاگے میںہم پرو کر ترے خیال کے پھولFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  19. آج کی رات ساز درد نہ چھیڑدکھ سے بھرپور دن تمام ہوئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  20. آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سےجس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  21. آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھیہم جنہیں رسم دعا یاد نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  22. اب کیوں اس دن کا ذکر کروجب دل ٹکڑے ہو جائے گاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  23. اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہےمہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویراFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  24. اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کوفکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  25. بول کہ لب آزاد ہیں تیرےبول زباں اب تک تیری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  26. بہار آئی تو جیسے یک بارلوٹ آئے ہیں پھر عدم سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  27. پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  28. تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیٔ گلفاموہ عکس رخ یار سے لہکے ہوئے ایامFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  29. تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارض وطنجو ترے عارض بے رنگ کو گلنار کریںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  30. تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  31. جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  32. چشم نم جان شوریدہ کافی نہیںتہمت عشق پوشیدہ کافی نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  33. چلو پھر سے مسکرائیںچلو پھر سے دل جلائیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  34. چند روز اور مری جان فقط چند ہی روزظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  35. خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو توسکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  36. دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گےکچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  37. دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیںتیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سرابFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  38. سب کاٹ دوبسمل پودوں کوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  39. سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھےبے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  40. سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نامبکھر گیا جو کبھی رنگ پیرہن سر بامFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  41. شام کے پیچ و خم ستاروں سےزینہ زینہ اتر رہی ہے راتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  42. کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  43. گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  44. گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیںریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  45. گلشن یاد میں گر آج دم باد صباپھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  46. گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  47. مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  48. مرا درد نغمۂ بے صدامری ذات ذرۂ بے نشاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  49. مرے دل، مرے مسافرہوا پھر سے حکم صادرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  50. موتی ہو کہ شیشہ جام کہ درجو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)