آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

Faiz Ahmad Faiz (1911–1984)

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

ہم پرو کر ترے خیال کے پھول

ترک الفت کے دشت سے چن کر

آشنائی کے ماہ و سال کے پھول

تیری دہلیز پر سجا آئے

پھر تری یاد پر چڑھا آئے

باندھ کر آرزو کے پلے میں

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول