Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہےوہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  2. نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  3. وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  4. وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہےجب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  5. ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گےجو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  6. ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  7. ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  8. یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  9. یہ دھوپ کنارا شام ڈھلےملتے ہیں دونوں وقت جہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  10. یہ رات اس درد کا شجر ہےجو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  11. یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتےکہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  12. تم مرے پاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  13. درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نےہر رگ جاں سے الجھنا چاہاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  14. درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کریار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  15. آج کے ناماورFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  16. تم نہ آئے تھے تو ہر اک چیز وہی تھی کہ جو ہےآسماں حد نظر راہ گزر راہ گزر شیشۂ مے شیشۂ مےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  17. آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربانبھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  18. ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دےگناہ گار نظر کو حجاب آتا ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  19. بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتےتم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  20. جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گےپھر بھی مصروف انتظار ہے دلFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  21. خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملےشیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  22. رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئیجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  23. وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گےشب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  24. ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکناب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  25. ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافیجو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  26. یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دموصال یار فقط آرزو کی بات نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  27. آسماں تک جو نالہ پہنچا ہےدل کی گہرائیوں سے نکلا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  28. آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیںہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  29. اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہمہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہمMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  30. برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں میری محبت کا جواب اور زیادہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  31. بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جاناتبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جاناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  32. پرتو ساغر صہبا کیا تھارات اک حشر سا برپا کیا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  33. تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  34. جگر اور دل کو بچانا بھی ہےنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  35. جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  36. حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئےدل کی جانب نظر ہے کیا کہئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  37. حسن کو بے حجاب ہونا تھاشوق کو کامیاب ہونا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  38. خامشی کا تو نام ہوتا ہےورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  39. خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئیہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  40. دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھیعشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  41. درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقیہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  42. دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیںاب کرم بھی گراں نہ ہو جائےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  43. دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیںیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  44. شہر نگارMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  45. رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوںکشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  46. سارا عالم گوش بر آواز ہےآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  47. سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپناعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  48. ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیانغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  49. سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیںہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  50. شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگاعشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگاMajaz Lakhnawi (1911–1955)