Poetry
Poet
Meter
- میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہےوہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہےجب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گےجو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ دھوپ کنارا شام ڈھلےملتے ہیں دونوں وقت جہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ رات اس درد کا شجر ہےجو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتےکہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تم مرے پاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نےہر رگ جاں سے الجھنا چاہاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کریار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آج کے ناماورFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تم نہ آئے تھے تو ہر اک چیز وہی تھی کہ جو ہےآسماں حد نظر راہ گزر راہ گزر شیشۂ مے شیشۂ مےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربانبھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دےگناہ گار نظر کو حجاب آتا ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتےتم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گےپھر بھی مصروف انتظار ہے دلFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملےشیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئیجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گےشب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکناب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافیجو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دموصال یار فقط آرزو کی بات نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آسماں تک جو نالہ پہنچا ہےدل کی گہرائیوں سے نکلا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیںہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہمہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہمMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں میری محبت کا جواب اور زیادہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جاناتبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جاناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- پرتو ساغر صہبا کیا تھارات اک حشر سا برپا کیا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- جگر اور دل کو بچانا بھی ہےنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئےدل کی جانب نظر ہے کیا کہئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن کو بے حجاب ہونا تھاشوق کو کامیاب ہونا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خامشی کا تو نام ہوتا ہےورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئیہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھیعشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقیہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیںاب کرم بھی گراں نہ ہو جائےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیںیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شہر نگارMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوںکشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سارا عالم گوش بر آواز ہےآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپناعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیانغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیںہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگاعشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگاMajaz Lakhnawi (1911–1955)