اک بادۂ سیمابی برسا مہ و اختر سے

Faiz Jhanjhanvi (1910–1981)

اک بادۂ سیمابی برسا مہ و اختر سے

نکلے جو تڑپ کر وہ چاک دل مضطر سے

اک عشرت لا فانی اک درد بقا پرور

میزان دو عالم میں ہم تم ہیں برابر سے

کھلتا ہے بہ آسانی کب عقدۂ مجبوری

ایسے میں تو کام اے دل لے ناخن خنجر سے

اک سعیٔ نظارہ پھر اے چشم تماشائی

شاید نہ نقاب اٹھے پھر اس رخ انور سے

آؤ غم پرسش کیا میں شکوے سے باز آیا

تم چار قدم پیچھے کیوں ہو صف محشر سے

اک مرگ دل و جاں تھی منزل کی تن آسانی

رہزن سے زیادہ ہے شکوہ مجھے رہبر سے

اے فیضؔ تقاضائے تہذیب نظریہ ہے

دیکھ اس بت کافر کو چشم مہ و اختر سے