نشاط روح وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتا

Faiz Jhanjhanvi (1910–1981)

نشاط روح وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتا

وہ اک نغمہ جو آواز شکست دل نہیں ہوتا

بجز صحرا نوردی اور کچھ حاصل نہیں ہوتا

اگر دست جنوں پردہ کش محمل نہیں ہوتا

حقیقت آشنا رنگ رخ باطل نہیں ہوتا

کہ غنچہ ٹوٹ کر بھی ہم نوائے دل نہیں ہوتا

یقیناً ہے ابھی ناواقف رسم و رہ منزل

وہ خضر راہ جو گم کردۂ منزل نہیں ہوتا

ذرا تیر ہدف جو سوچ کر عزم پر افشانی

کہ فردوس دو عالم خوں بہائے دل نہیں ہوتا

تو بحر عشق میں دل کو ہم آغوش تلاطم رکھ

یہ وہ موتی ہے جو پروردۂ ساحل نہیں ہوتا