ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہے

Faiz Jhanjhanvi (1910–1981)

ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہے

زمانے بھر کا تلون ترے شباب میں ہے

ضمیر لوح و قلم جس سے پیچ و تاب میں ہے

وہ راز میرے دل خانماں خراب میں ہے

تصور اس کا مرے دیدۂ پر آب میں ہے

جو بے حجاب بھی ہو کر ابھی حجاب میں ہے

نگاہ حسن سے ازل جو کوندی تھی

وہ برق دیکھ مرے ساغر شراب میں ہے

بس ایک سبزۂ بیگانہ پر نہیں موقوف

یہ وہ چمن ہے جہاں ذرہ ذرہ خواب میں ہے

لکھا تھا کلک ازل نے جو حسن و مستی پر

وہ تبصرہ بھی تری چشم نیم خواب میں ہے

بالاتفاق تم اب بن گئے نہ مرکز حسن

یہی تو بات مرے حسن انتخاب میں ہے

خیال ترک محبت درست فیضؔ مگر

میں پوچھتا ہوں یہ امکان آنجناب میں ہے