وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئے
Faiz Jhanjhanvi (1910–1981)وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئے
شعور چاہئے پھولوں کو آرزو کے لئے
شہید خندۂ گل اے اسیر جلوۂ مہ
نظر کو گرمیٔ دل چاہئے نمو کے لئے
یہ کیا کہا سر محفل نگاہ قاتل نے
مچل رہی ہے ہر اک شے مرے لہو کے لئے
اٹھا کے صحن چمن میں نقاب لالہ و گل
مزے بہارنے تشہیر رنگ و بو کے لئے
فقط نظر کو چراغ رہ طلب نہ سمجھ
ضرور گمشدگی بھی ہے جستجو کے لئے
جبین صبح پہ روشن چراغ طور نہیں
وہ آ گئے ہیں سر بام گفتگو کے لئے
غرور چاک جنوں فیضؔ سرنگوں نہ ہوا
ہزار خار مغیلاں بڑھے رفو کے لئے