گل رنگیں مہ کامل کہاں ہے

Faiz Jhanjhanvi (1910–1981)

گل رنگیں مہ کامل کہاں ہے

مجھے آواز دے اے دل کہاں ہے

ہے خود گمراہ عقل مصلحت میں

جنوں سے پوچھئے منزل کہاں ہے

ہر اک شے اس محیط زندگی میں

فریب موج ہے ساحل کہاں ہے

نہ اٹھلا اے نسیم صبح گاہی

خدا جانے مرا اب دل کہاں ہے

در ماضی جبین حال کب تک

بتا اے میرے مستقبل کہاں ہے

نہ معلوم اے سکون کامرانی

وہ لطف سعیٔ لا حاصل کہاں ہے

بہار آئے گی اشک سادہ رو پر

ابھی خون جگر شامل کہاں ہے

وہ دل جس کو میسر ہے حضوری

اسیر بزم آب و گل کہاں ہے

جسے سمجھا ہے فیضؔ آئینۂ حق

وہ بے عکس رخ باطل کہاں ہے