Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیںجو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  2. یہ سوچتا ہوں کہ خود عارف حیات بھی ہےبشر جو محرم اسرار کائنات بھی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  3. دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہےآنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  4. میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہصورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  5. آرائش گیسوئے سخن کرتے رہیں گےبے خوف و خطر خدمت فن کرتے رہیں گےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  6. ابر آیا ہے خمار آیا ہےچہرۂ گل پہ نکھار آیا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  7. جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہواکسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہواLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  8. حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہےدر بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  9. خوش ہیں انعام ملا ہو جیسےدرد بھی کوئی دوا ہو جیسےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  10. فضا میں بوئے گل مشک بار ہے کہ نہیںہوا کے دوش پہ پیغام یار ہے کہ نہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  11. وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیںجو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  12. یہ مشت خاک مجھ کو اک جہاں معلوم ہوتی ہےجو گرد کارواں ہے کارواں معلوم ہوتی ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  13. مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہےلفظوں میں فقط اس کا ہمدرد زمانہ ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  14. آئینہ بن جائیے جلوہ اثر ہو جائیےسامنے وہ ہوں تو سر تا پا نظر ہو جائیےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  15. اجالا کر کے ظلمت میں گھرا ہوںچراغ رہ گزر تھا بجھ گیا ہوںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  16. اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تکمقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
  17. اس رنگ میں اپنے دل ناداں سے گلہ ہےجیسے ہمیں کل عالم امکاں سے گلہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  18. اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کماور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  19. اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیںعشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  20. اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہےآنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  21. تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میںاے زمیں آسماں نہیں ہوں میںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  22. تم نے رسم جفا اٹھا دی ہےہمیں کس جرم کی سزا دی ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  23. جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کرہمیں نیند آ گئی بیدار ہو کرSaba Akbarabadi (1908–1991)
  24. جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےیہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  25. جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیںجو سوچیے کہ خفا ہیں تو وہ خفا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  26. جو ہمارے سفر کا قصہ ہےوہ تری رہ گزر کا قصہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  27. چلا چل مہلت آرام کیا ہےمسافر اور تیرا کام کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  28. حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیافصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  29. سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیابات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  30. سونا تھا جتنا عہد جوانی میں سو لیےاب دھوپ سر پہ آ گئی ہے آنکھ کھولیےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  31. غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیںتیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  32. کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھوجس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھوSaba Akbarabadi (1908–1991)
  33. منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیزرستہ ملا دشوار تو میں اور چلا تیزSaba Akbarabadi (1908–1991)
  34. ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہےمری محفل مرا خلوت‌ کدہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  35. ہے جو درویش وہ سلطاں ہے یہ معلوم ہوابوریا تخت سلیماں ہے یہ معلوم ہواSaba Akbarabadi (1908–1991)
  36. یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگاجو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  37. آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہتکہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  38. آپ کے لب پہ اور وفا کی قسمکیا قسم کھائی ہے خدا کی قسمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  39. آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کاسامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  40. ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیںہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  41. اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریکرات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  42. اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑےاب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  43. ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچاکسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  44. اس شان کا آشفتہ و حیراں نہ ملے گاآئینہ سے فرصت ہو تو تصویر صباؔ دیکھSaba Akbarabadi (1908–1991)
  45. اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیںچھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  46. ایسا بھی کوئی غم ہے جو تم سے نہیں پایاایسا بھی کوئی درد ہے جو دل میں نہیں ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  47. بال و پر کی جنبشوں کو کام میں لاتے رہواے قفس والو قفس سے چھوٹنا مشکل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  48. بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہےآدمی آدمی اکیلا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  49. پستی نے بلندی کو بنایا ہے حقیقتیہ رفعت افلاک بھی محتاج زمیں ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  50. ٹکڑے ہوئے تھے دامن ہستی کے جس قدردلق گدائے عشق کے پیوند ہو گئےSaba Akbarabadi (1908–1991)