Poetry
Poet
Meter
- وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیںجو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- یہ سوچتا ہوں کہ خود عارف حیات بھی ہےبشر جو محرم اسرار کائنات بھی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہےآنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہصورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- آرائش گیسوئے سخن کرتے رہیں گےبے خوف و خطر خدمت فن کرتے رہیں گےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- ابر آیا ہے خمار آیا ہےچہرۂ گل پہ نکھار آیا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہواکسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہواLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہےدر بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- خوش ہیں انعام ملا ہو جیسےدرد بھی کوئی دوا ہو جیسےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- فضا میں بوئے گل مشک بار ہے کہ نہیںہوا کے دوش پہ پیغام یار ہے کہ نہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیںجو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- یہ مشت خاک مجھ کو اک جہاں معلوم ہوتی ہےجو گرد کارواں ہے کارواں معلوم ہوتی ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہےلفظوں میں فقط اس کا ہمدرد زمانہ ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- آئینہ بن جائیے جلوہ اثر ہو جائیےسامنے وہ ہوں تو سر تا پا نظر ہو جائیےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اجالا کر کے ظلمت میں گھرا ہوںچراغ رہ گزر تھا بجھ گیا ہوںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تکمقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اس رنگ میں اپنے دل ناداں سے گلہ ہےجیسے ہمیں کل عالم امکاں سے گلہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کماور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیںعشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہےآنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میںاے زمیں آسماں نہیں ہوں میںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- تم نے رسم جفا اٹھا دی ہےہمیں کس جرم کی سزا دی ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کرہمیں نیند آ گئی بیدار ہو کرSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےیہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیںجو سوچیے کہ خفا ہیں تو وہ خفا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جو ہمارے سفر کا قصہ ہےوہ تری رہ گزر کا قصہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- چلا چل مہلت آرام کیا ہےمسافر اور تیرا کام کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیافصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیابات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- سونا تھا جتنا عہد جوانی میں سو لیےاب دھوپ سر پہ آ گئی ہے آنکھ کھولیےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیںتیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھوجس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھوSaba Akbarabadi (1908–1991)
- منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیزرستہ ملا دشوار تو میں اور چلا تیزSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہےمری محفل مرا خلوت کدہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ہے جو درویش وہ سلطاں ہے یہ معلوم ہوابوریا تخت سلیماں ہے یہ معلوم ہواSaba Akbarabadi (1908–1991)
- یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگاجو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہتکہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- آپ کے لب پہ اور وفا کی قسمکیا قسم کھائی ہے خدا کی قسمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کاسامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیںہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریکرات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑےاب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچاکسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اس شان کا آشفتہ و حیراں نہ ملے گاآئینہ سے فرصت ہو تو تصویر صباؔ دیکھSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیںچھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ایسا بھی کوئی غم ہے جو تم سے نہیں پایاایسا بھی کوئی درد ہے جو دل میں نہیں ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- بال و پر کی جنبشوں کو کام میں لاتے رہواے قفس والو قفس سے چھوٹنا مشکل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
- بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہےآدمی آدمی اکیلا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- پستی نے بلندی کو بنایا ہے حقیقتیہ رفعت افلاک بھی محتاج زمیں ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ٹکڑے ہوئے تھے دامن ہستی کے جس قدردلق گدائے عشق کے پیوند ہو گئےSaba Akbarabadi (1908–1991)