وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیں
Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیں
جو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیں
نہ صرف پھل بلکہ پھول پتے بھی کھا گئے بھوکے چیل کوے
کبھی جو سرسبز و بار آور تھے نخل ننگے کھڑے ہوئے ہیں
گل صداقت کی ان کو خوشبو پسند آئی نہ آ سکے گی
غرور و پندار کی خودی سے دماغ ان کے سڑے ہوئے ہیں
عوام ہیں لاکھ ڈھور ڈنگر کبھی تو ان کو بھی گھاس ڈالیں
انہیں حقیروں کی عظمتوں سے حضور اتنے بڑے ہوئے ہیں
محافظوں کا اگر چلے بس تو ارض پاک آج بیچ ڈالیں
مگر کریں کیا کہ ہم سے غدار درمیاں میں اڑے ہوئے ہیں